اتوار، 5 ستمبر، 2021

ہستی اپنی حباب کی سی ہے ۔ میر تقی میر اردو شاعری ۔ غزل

 ہستی اپنی حباب کی سی ہے

یہ نمائش سراب کی سی ہے

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں

حالت اب اضطراب کی سی ہے

میں جو بولا کہا کہ یہ آواز

اسی خانہ خراب کی سی ہے

میر ان نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی ہے


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل