نئے کپڑے بدل کر جاؤن کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے
جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی
ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اٹھاؤں کس کے لیے
ناصر کاظمی غزل
| Nae Kapde Badal Kar Jaon kahan Aur Baal Banaoon Kis Ke Liye - Nasir Kazmi Ghazals |