محبت اب نہیں ہوگی
ستارے جو دمکتے ہیں
کسی کی چشم حیراں میں
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں
جمال ابر و باراں میں
یہ نا آباد وقتوں میں
دل ناشاد میں ہوگی
محبت اب نہیں ہوگی
یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
گزر جائیں گے جب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہوگی
محبت اب نہیں ہوگی
ستارے جو دمکتے ہیں
کسی کی چشم حیراں میں
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں
جمال ابر و باراں میں
یہ نا آباد وقتوں میں
دل ناشاد میں ہوگی
محبت اب نہیں ہوگی
یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
گزر جائیں گے جب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہوگی
یا حسین یا حسین
شہید کربلا کی مومنو جب یاد آتی ہے
تھی گر آنے میں مصلحت حائل
یاد آنا کوئئ ضروری تھا
دیکھیے ہو گئی غلط فہمی
مسکرانا کوئی ضروری تھا
لیجیے بات ہی نہ یاد رہی
گنگنانا کوئی ضروری تھا
گنگنا کر مری جواں غزلیں
جھوم جانا کوئی ضروری تھا
مجھ کو پا کر کسی خیال میں گم
چھپ کے آنا کوئی ضروری تھا
اف وہ زلفیں وہ ناگنیں وہ ہنسی
یوں ڈرانا کوئی ضروری تھا
اور ایسے اہم مذاق کے بعد
روٹھ جانا کوئی ضروری تھا
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل