![]() |
| آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل |
جمعہ، 3 جون، 2022
ہفتہ، 21 مئی، 2022
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا ۔ احمد فراز کی غزل شاعری
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا
احمد فراز کی خوبصورت اردو غزل شاعری
بدھ، 18 مئی، 2022
اتوار، 6 مارچ، 2022
فرض کرو ہم اہل وفا ہوں فرض کرو ہم تارے ہوں ۔ ابن انشا کی خوبصورت اردو نظم
فرض کرو ہم اہل وفا ہوں فرض کرو ہم تارے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
فرض کرو یہ جی کی بپتاجی سےجوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے سنائی ہو
فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے میخانے ہوں
فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پر بھاری ہو
فرض کرو یہ جوگ بجوگ ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیت باقی سب کچھ مایا ہو
دیکھ مری جاں کہہ گئے باہو کون دلوں کی جانے ہو
بستی بستی صحرا صحرا لوکھوں کرے دوانے ہو
جوگی بھی جو نگر نگر میں مارے مارے پھرتے ہیں
کاسہ لیے بھبوت رمائےسب کے دوارے پھرتے ہیں
شاعر بھی جو میٹھی بانی بول کے من کو ہرتے ہیں
بنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں
ان میں سچے موتی بھی ہیں ان میں کنکر پتھربھی
ان میں اتھلے پانی بھی ہیں ان میں گہرے ساگر بھی
گوری دیکھ کے آگے بڑھنا سب کا جھوٹا سچا ہو
ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گھڑا تھا جس کا کچا ہو
جمعہ، 22 اکتوبر، 2021
Nae Kapde Badal Kar Jaon kahan Aur Baal Banaoon Kis Ke Liye - Nasir Kazmi Ghazals
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل
-
ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں حالت اب اضطر...
-
یا حسین یا حسین شہید کربلا کی مومنو جب یاد آتی ہے
-
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر ۔ علامہ اقبال اردو شاعری

