![]() |
| ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی ۔ محسن نقوی غزل ۔ اردو شاعری |
پیر، 27 ستمبر، 2021
اتوار، 19 ستمبر، 2021
جمعہ، 17 ستمبر، 2021
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا ۔ میر تقی میر اردو شاعری ۔ غزل
جمعرات، 16 ستمبر، 2021
تو ہے یا تیرا سایہ ہے ۔ ناصر کاظمی اردو شاعری ۔ غزل
بدھ، 15 ستمبر، 2021
اپنی دھن میں رہتا ہوں ۔ ناصر کاظمی غزل شاعری
جمعرات، 9 ستمبر، 2021
شکل اس کی تھی دلبروں جیسی ۔ محسن نقوی کی شاعری ۔ اردو شاعری
شکل اس کی تھی تھی دلبروں جیسی
خو تھی لیکن ستمگروں جیسی
اس کے لب تھے سکوت کے دریا
اس کی آنکھیں سخنوروں جیسی
میری پرواز جاں میں حائل ہے
سانس ٹوٹے ہوئے پروں جیسی
دل کی بستی میں رونقیں ہیں مگر
چند اجڑے ہوئے گھروں جیسی
کون دیکھے گا اب صلیبوں پر
صورتیں وہ پیمبروں جیسی
میری دنیا کے بادشاہوں کی
عادتیں ہیں گداگروں جیسی
رخ پہ صحرا ہیں پیاس کے محسن
دل میں لہریں سمندروں جیسی
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل
-
ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں حالت اب اضطر...
-
یا حسین یا حسین شہید کربلا کی مومنو جب یاد آتی ہے
-
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر ۔ علامہ اقبال اردو شاعری





