| تری امید ترا انتظار جب سے ہے ۔ فیض احمد فیض ۔ اردو شاعری |
غزل
ٖفیض احمد فیض غزل
تیری امید ترا انتظار جب سے ہے
نہ دن کو شب سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے
کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم
گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے
ہوا ہے جب سے دل نا صبور بے قابو
کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے
اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول ہے تو کھلے
طرح طرح کی طلب تیرے رنگ لب سے ہے
کہاں گئے شب فرقت کے جاگنے والے
ستارہ سحری ہمکلام کب سے ہے
فیض احمد فیض کی بہترین شاعری اور غزلیں پڑھنے کے لیے اس بلاگ کے ممبر بن جائیں آپ کو یہاں ہر طرح کی اردو شاعری ملے گی۔
اردو شاعری کا بہترین بلاگ





