جمعہ، 22 اکتوبر، 2021

Nae Kapde Badal Kar Jaon kahan Aur Baal Banaoon Kis Ke Liye - Nasir Kazmi Ghazals

 نئے کپڑے بدل کر جاؤن کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے

وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے

جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی

ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اٹھاؤں کس کے لیے

ناصر کاظمی غزل

Nae Kapde Badal Kar Jaon kahan Aur Baal Banaoon Kis Ke Liye - Nasir Kazmi Ghazals 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل