محبت اب نہیں ہوگی
ستارے جو دمکتے ہیں
کسی کی چشم حیراں میں
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں
جمال ابر و باراں میں
یہ نا آباد وقتوں میں
دل ناشاد میں ہوگی
محبت اب نہیں ہوگی
یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
گزر جائیں گے جب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہوگی
منیر نیازی
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں