جمعہ، 3 ستمبر، 2021

ہیں موسم رنگ کے کتنے گنوائے میں نہیں گنتا ۔ جون ایلیا شاعری ۔ غزل ۔ اردو شاعری

 ہیں موسم  رنگ کے کتنے گنوائے میں نہیں گِنتا

ہوئے کتنے دن اس کوچے سے آئے میں نہیں گِنتا

بھلا خود میں کب اپنا ہوں سو پھر اپنا پرایا کیا

ہیں کتنے اپنے اور کتنے پرائے میں نہیں گِنتا

لبوں کے بیچ بیچ تھا ہر سانس اک گنتی بچھڑنے کی

مرے وہ لاکھ بوسے لے کے جائے میں نہیں گنتاا

وہ میری ذات کی بستی جو تھی میں اب وہاں کب ہوں

وہاں آباد تھے کِس کِس کے سائے میں نہیں گِنتا

بھلا یہ غم میں بھولوں گا کہ غم بھی بھول جاتے ہیں

مرے لمحوں نے کتنے غم بُھلائے میں نہیں گِنتا

تو جن یادوں کی خوشبو لے گئی تھی اے صبا مجھ سے

انہیں تُو موج اندر موج لائے میں نہیں گِنتا

وہ سارے رشتہ ہائے جاں کے تازہ تھے جو اس پل تک

تھے سب باشندہء کہنہ سرائے میں نہیں گِنتا

جون ایلیا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل