جمعہ، 3 ستمبر، 2021

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ۔ احمد فراز غزل شاعری ۔ Silsilay Tor Gaya Woh

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ۔ احمد فراز غزل شاعری ۔ Silsilay Tor Gaya Woh 

 سلسے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم کہ آتے جاتے
احمد فراز
Ahmad Faraz Ghazal

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل