جمعہ، 3 ستمبر، 2021
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ۔ احمد فراز غزل شاعری ۔ Silsilay Tor Gaya Woh
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ۔ احمد فراز غزل شاعری ۔ Silsilay Tor Gaya Woh
سلسے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم کہ آتے جاتے
احمد فراز
Ahmad Faraz Ghazal
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
جدید تر اشاعت
قدیم تر اشاعت
ہوم
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل
ہستی اپنی حباب کی سی ہے ۔ میر تقی میر اردو شاعری ۔ غزل
ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں حالت اب اضطر...
شہید کربلا کی مومنو جب یاد آتی ہے ۔ محسن نقوی کی کربلا اردو شاعری
یا حسین یا حسین شہید کربلا کی مومنو جب یاد آتی ہے
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر ۔ علامہ اقبال اردو شاعری
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر ۔ علامہ اقبال اردو شاعری
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں