Chalo wo ishq nahi chahne ki adat hai - ahmad faraz ghazal
جمعہ، 3 ستمبر، 2021
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ۔ احمد فراز غزل شاعری ۔ Silsilay Tor Gaya Woh
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ ۔ احمد فراز غزل شاعری
وہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میں ستارے لے کر ۔ احمد فراز غزل شاعری
وہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میں ستارے لے کر
جانے کس دیس گئے خواب ہمارے لے کر
Wo Jo Aa Jaate The Ankhon Mein Sitare Lekar
Jane Kis Dees Gaye Khwab Hamare Lekar
Ahmad Faraz Ghazal
Click on pic to read
جمعرات، 2 ستمبر، 2021
اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا ۔ احمد فراز غزل شاعری
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل
-
ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں حالت اب اضطر...
-
یا حسین یا حسین شہید کربلا کی مومنو جب یاد آتی ہے
-
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر ۔ علامہ اقبال اردو شاعری






