اتوار، 5 ستمبر، 2021

ہستی اپنی حباب کی سی ہے ۔ میر تقی میر اردو شاعری ۔ غزل

 ہستی اپنی حباب کی سی ہے

یہ نمائش سراب کی سی ہے

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں

حالت اب اضطراب کی سی ہے

میں جو بولا کہا کہ یہ آواز

اسی خانہ خراب کی سی ہے

میر ان نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی ہے


جمعہ، 3 ستمبر، 2021

میں حد سے گزر جاؤں محبت نے کہا تھا ۔ جون ایلیا کی غزل شاعری ۔ اردو شاعری

 ٹھہروں نہ گلی میں تری وحشت نے کہا تھا

میں حد سے گزر جاؤں محبت نے کہا تھا

دَر تک تیرے لائی تھی نسیم نفس انگیز

دم بھر نہ رکوں یہ تیری نکہت نے کہا تھا

احسان کسی سرو کے سائے کا نہ لوں میں

مجھ سے یہ ترے فتنہء قامت نے کہا تھا

مارا ہوں  مشیت کا نہیں کچھ مری مرضی

یہ بھی ترے قامت کی قیامت نے کہا تھا

دل شہر سے کر جاؤں سفر میں سوئے دنیا

مجھ سے تو یہی میری سہولت نے کہا تھا

ہیں موسم رنگ کے کتنے گنوائے میں نہیں گنتا ۔ جون ایلیا شاعری ۔ غزل ۔ اردو شاعری

 ہیں موسم  رنگ کے کتنے گنوائے میں نہیں گِنتا

ہوئے کتنے دن اس کوچے سے آئے میں نہیں گِنتا

بھلا خود میں کب اپنا ہوں سو پھر اپنا پرایا کیا

ہیں کتنے اپنے اور کتنے پرائے میں نہیں گِنتا

لبوں کے بیچ بیچ تھا ہر سانس اک گنتی بچھڑنے کی

مرے وہ لاکھ بوسے لے کے جائے میں نہیں گنتاا

وہ میری ذات کی بستی جو تھی میں اب وہاں کب ہوں

وہاں آباد تھے کِس کِس کے سائے میں نہیں گِنتا

بھلا یہ غم میں بھولوں گا کہ غم بھی بھول جاتے ہیں

مرے لمحوں نے کتنے غم بُھلائے میں نہیں گِنتا

تو جن یادوں کی خوشبو لے گئی تھی اے صبا مجھ سے

انہیں تُو موج اندر موج لائے میں نہیں گِنتا

وہ سارے رشتہ ہائے جاں کے تازہ تھے جو اس پل تک

تھے سب باشندہء کہنہ سرائے میں نہیں گِنتا

جون ایلیا

وہ نہیں تھا میری طبیعت کا ۔ جون ایلیا شاعری ۔ غزل ۔ اردو شاعری

وہ نہیں تھا میری طبیعت کا ۔ جون ایلیا شاعری ۔ غزل ۔ اردو شاعری
Wo Nahi Tha Meri Tabiyat Ka - Jaun Elia Ghazal

 

اس سے رشتہ ہی کیا رہا میرا ۔ جون ایلیا غزل ۔ اردو شاعری

 

اس سے رشتہ ہی کیا رہا میرا ۔ جون ایلیا غزل ۔ اردو شاعری
Us Se Rishat Hi Kya Raha Mera - Jaun Elia Ghazal - Urdu Shayari

یاد آنا کوئی ضروری تھا ۔ جون ایلیا اردو شاعری ۔ غزل

 

یاد آنا کوئی ضروری تھا ۔ جون ایلیا اردو شاعری ۔ غزل
Yaad Aana Koi Zaroori tha - Jaun Elia

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل