اتوار، 6 مارچ، 2022

فرض کرو ہم اہل وفا ہوں فرض کرو ہم تارے ہوں ۔ ابن انشا کی خوبصورت اردو نظم

 فرض کرو ہم اہل وفا ہوں فرض کرو ہم تارے ہوں

فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں

فرض کرو یہ جی کی بپتاجی سےجوڑ سنائی ہو

فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے سنائی ہو

فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں

فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے میخانے ہوں

فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا جھوٹی پیت ہماری ہو

فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پر بھاری ہو

فرض کرو یہ جوگ بجوگ ہم نے ڈھونگ رچایا ہو

فرض کرو بس یہی حقیت باقی سب کچھ مایا ہو

دیکھ مری جاں کہہ گئے باہو کون دلوں کی جانے ہو

بستی بستی صحرا صحرا لوکھوں کرے دوانے ہو

جوگی بھی جو نگر نگر میں مارے مارے پھرتے ہیں

کاسہ لیے بھبوت رمائےسب کے دوارے پھرتے ہیں

شاعر بھی جو میٹھی بانی بول کے من کو ہرتے ہیں

بنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں

ان میں سچے موتی بھی ہیں ان میں کنکر پتھربھی

ان میں اتھلے پانی بھی ہیں ان میں گہرے ساگر بھی

گوری دیکھ کے آگے بڑھنا سب کا جھوٹا سچا ہو

ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گھڑا تھا جس کا کچا ہو

ابن انشا

جمعہ، 22 اکتوبر، 2021

Nae Kapde Badal Kar Jaon kahan Aur Baal Banaoon Kis Ke Liye - Nasir Kazmi Ghazals

 نئے کپڑے بدل کر جاؤن کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے

وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے

جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی

ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اٹھاؤں کس کے لیے

ناصر کاظمی غزل

Nae Kapde Badal Kar Jaon kahan Aur Baal Banaoon Kis Ke Liye - Nasir Kazmi Ghazals 


جمعہ، 8 اکتوبر، 2021

تری امید ترا انتظار جب سے ہے ۔ فیض احمد فیض ۔ اردو شاعری

تری امید ترا انتظار جب سے ہے ۔ فیض احمد فیض ۔ اردو شاعری

 غزل
ٖفیض احمد فیض غزل
تیری امید ترا انتظار جب سے ہے
نہ دن کو شب سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے
کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم
گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے
ہوا ہے جب سے دل نا صبور بے قابو
کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے
اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول ہے تو کھلے
طرح طرح کی طلب تیرے رنگ لب سے ہے
کہاں گئے شب فرقت کے جاگنے والے
ستارہ سحری ہمکلام کب سے ہے
فیض احمد فیض کی بہترین شاعری اور غزلیں پڑھنے کے لیے اس بلاگ کے ممبر بن جائیں آپ کو یہاں ہر طرح کی اردو شاعری ملے گی۔
اردو شاعری کا بہترین بلاگ

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک ۔ مرزا غالب کی شاعری ، اردو غزل